الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 45
نبیوں سے آخر میں وضعت نبوت سے متصف ہونے کے لئے ساتھ ہی اس عالمہ کی قید بھی لگا دی۔گویا آخر الستين على الاطلاق کو دو قیدوں سے مقید کر دیا۔ایک یہ کہ آپ وصف نبوت پانے میں آخری ہیں۔دوسری یہ کہ اس عالم میں وصیت نبوت پانے میں آخری ہیں۔حالانکہ اصل حقیقت یہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمہ وصیت نبوت پانے میں سب سے پہلے بنی ہیں۔اور اس عالم میں آپ تشریعی بنی یہ شریعت قامتہ کا ملہ مستقبلہ الى يوم القيامة لانے میں آخری نبی ہیں۔مفتی صاحب ان معنوں میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے سے انکار نہیں کر سکتے۔یہوہ خاتمیت زمانی ہے جو ہمیں اور مولوی محمد قاسم صاحب کو مسلم ہے۔اور خالقیت زمانی اس مفہوم میں غائیت بالذات مرتبی کو بد نالت التزامی لازم ہے۔اور اس فانیت زمانی کی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت کسی غیر تشریعی اتنی بی کا پیدا ہونا خاتمیت بالذات کا نین ہوگا۔اور اس خاتمیت زمانی کے منانی بھی نہ ہوگا، کیونکہ ایسا بنی آپ کی شریعت کی اساسات کے لئے آنے والا ہو گا۔نہ کہ شریعیت جدیدہ لانے والا یا مستقل نبی شریعیت جديده تنامه كامل الى يوم القيامة لانے والے بنی صرف آنحضرت مسلے اللہ علیہ وسلم ہیا نہ ہیں گئے۔اس طرح کسی امتی بنی کا آپ کے بعد پیدا ہونا ان خاتمیت زمانی کے معارض نہیں ہوگا۔مفتی صاحب نے اپنے مذکورہ مشبہ کے جواب میں کہ جب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم آخر انہین ہیں توحضرت مینے دیا اسلام آپ کے بعد کیسے آسکتے ہیں؟