الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 37 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 37

PA معنی تر <mark>آخری</mark> تشریعی <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> بشریعه تا مہ کا ملا مستقلہ الی یوم القیمۃ کے معنوں میں ان معنی کو لازم ہیں نہ یہ کہ خاتم النہین کے صرف یہی ایک معنی ہیں ان کے سوا کوئی اور معنی نہیں۔مفتی فضا کی علمی <mark>غلطی</mark> پر جناب مفتی محمدشفیع <mark>صاحب</mark> نے اپنے اس بیان میں سخت علی <mark>غلطی</mark> کا ارتکاب کیا ہے کہ خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ین کی دونوں قراء توں میں تمام <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>وں کو ختم کرنے والا بنی یا آخر نیستین حقیقی معنی ہیں۔حالانکہ مفردات القرآن کے بیان اور حاشیہ بیضاوی سے یہ ظاہر ہے کہ ختم کرنا اور آخر کو پہنچنا ختم مصدر کے مجازی سنی ہیں حقیقی معنی اس کے تاثیر الشی اور اثر حاصل ہیں۔اپنی حقیقی معنوں کو مولانا محمد قام <mark>صاحب</mark> نے اختیار کیا ہے اور انہی معنی سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی نبوت بالذات اور دوسرے ا<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>اء کی نبوتیں آپ کی خاتم روحانی کا نین اور تاثیر کا اثر حاصل قرار پاتی ہیں۔مفتی محمد شفیع <mark>صاحب</mark> نے آگے چل کر رکھا ہے :- خاتم بالفتح اور بال<mark>کس</mark>ر کے حقیقی معنے صرف دو ہو سکتے ہیں اور اگر بالفرض مجازی معنے بھی لئے جائیں تو اگر چہ اس جگہ حقیقی معنی کے درست ہوتے ہوئے اس کی ضرورت نہیں لیکن بالفرض اگر ہوں تب بھی خاتم کے معنے قہر ہوں گے۔جیسا کہ خود مرزا <mark>صاحب</mark> قادیانی حقیقة الوحی حاشیہ منہ میں تصریح کرتے ہیں۔اور نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے تو حقیقۃ الوحی مثہ کے حاشیہ پرانا منہ کال والی