الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 36
تحریر فرماتے ہیں:۔عوام کے خیال میں تو آنحضرت سے اللہ علیہ وسلم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری بنی ہیں۔مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم و تاخر زمانی میں بالذات کی فضیلت نہیں۔پھر مقام مدرج میں ولکن رسول اللہ وخاتم النبتين فرمانا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔(تحذیر الناس مسلے) اس سے ظاہر ہے کہ مفتی صاحب کے خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کے سوا کوئی اور معنی جو مدح پر دلالت کرتے ہوئی تہ تسلیم کرنا اور صرف آخری بنی کے معنوں پر حصہ کرنا حضرت مولانا محمد قاسم صاحب کے نزدیک انہیں عوام میں داخل کرتا ہے نہ کہ اہل قسم ہیں۔اہل فہم کے معنے ان کے نزدیک یہ ہیں :- کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سوا آپ کے اور یہی موصوف بوصف نبوت بالعرض ہیں۔اوروں کی نبوت تو آپ کا فیض ہے مگر آپ کی نبوت کسی اور کا فیض نہیں۔ر تحذیر الناس ملا مفتی صاحب نے اہل قسم کے معنی کو اپنی کتاب ختم نبوت میں کہیں ذکر نہیں کیا اور صرف عوام کے معنوں پر ہی زور دیا ہے۔حالانکہ مقدم و تحقیقی معنی خاتم النبین کے خاتم بالذات نہیں ہیں۔نہ کہ آخری نبی۔آخری نبی کے