الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 35 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 35

کیونکہ خاتم بفتح تار آلہ تاثیر ہے۔اور تھا تم النبین بکسرتاو کے لحاظ سے تھا تم اللہ تین کے معنے نبیوں کے لئے موثر نبی کے ہوئے۔پس تمام انبیاء کے مقابلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان نبیوں کے لئے ذریعہ تاثیر یا ان نبیوں کے لئے موثرینی کے ہوئے اور یہی معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین بالذات ثابت کرتے ہیں جس سے یہ مراد ہے کہ سب انبیاء آپ کی خاتم اقرا کے فیض سے نبوت پاتے ہیں۔اور آپ کا خاتم النبین ہونا تمام انبیاء کے لئے ملت ہے اور سب انبیاء آپ کی خاتم بالذات کا محلول ہیں۔اپنی حقیقی معنوی کو موٹا تا محمد قاسم صاحب نانوتوی علیہ الرحمہ نے اختیار کیا ہے اور اپنی معنی کو خاتمیت زمانی کا زوم اور خاتمیت زبانی کی علت قرار دیا ہے۔پس مفتی محمد شفیع صاحب کا خاتم بکسر تا د اور خاتم بفتح تا مکا خاتم النبیین کی آیت میں نبیوں کو ختم کرنے والا یا آخر انیشتین معنی کرنا کو مجازی معنی ہوئے نہ حقیقی موتیا لیکن عجیب بات ہے کہ مفتی صاحب ختم کرنے والا یا آخر النبین کے معنی کو جو مجازی معنی ہیں حقیقی معنی اقرار دے رہے ہیں۔اور دونوں کا مفاد یہی قرار دے رہے ہیں کہ آپ سب انبیاء میں سے آخری نبی ہیں۔اس کے سوا مفتی صاحب کے نزدیک خاتم النبیین کے کوئی اور مینی ہی نہیں ہیں۔مگر حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مفتی صاحب کے ان مصریہ معنوں کو عوام کے لکھنے قرار دیتے ہیں نہ کہ اہل قسم کے معنی چنانچہ وہ