الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 34
۳۵ بند کر دینے اور روکنے کے ہوتے ہیں۔ختم الله علی تلوبِهِمْ وَخَمَ عَلى سَمْعِه وقلبه میں ہی مجازی معنی مراد ہیں۔اور کبھی اس کے مجازی معنی تقسیل حاصل کے لحاظ سے کسی لٹے سے اثر پیدا کرانا ہوتے ہیں اور کبھی اس کے مجازی معنی آخر کو پہنچنا ہوتے ہیں اور انہیں معنوں میر معتمدی القران کہا گیا ہے۔کہ میں تلاوت میں قرآن کے آخر تک اس بیان سے ظاہر ہے کہ ختم اور طبع کے حقیقی معنی دو ہیں یعنی تاثیر اشتی اور اثر حاصل تاثیر الشی اس کے مصدری معنی ہیں اور اثر حاصل حاصل مصدر کے معنی ہیں۔مفردات القرآن میں یہ دونوں معنی حقیقی قرار دئیے گئے ہیں ان معنوں کے علاوہ بندش۔روک اور تحصیل اثر من شئی اور آخر کو پنچنا مجازی معنی قرار دیئے گئے ہیں۔آیت خَتَمَ اللهُ عَلى قُلُو كي تفسير من تفسير بنیادی کے حاشیہ پر بھی لکھا ہے۔فإطلاق الْخَيْم عَلَى الْبُلُوغِ وَالاسْتِيثَانِ مفتى مجازي : یعنی خستم کا آخر کو پہنچنے اور بند کرنے کے معنوں میں استعمال مجازی معنی میں ہے۔اس لحاظ سے خاتم النبین بفتح تا ء کی قرآت کے لحاظ سے خاتم النبین کے معنی حقیقی مصدری معنوں کے لحاظ سے نبیوں کے لئے ذریعہ تاثیر ہوئے کے لئے زرعی