الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 33
۳۴ عَنِ النَّقش۔ترجمہ: کہ ختم اور جمع کی دو صورتیں ہیں۔پہلی صورت یہ ہے کہ یہ دونوں لفظ حکمت اور طبعت کا مصدر ہیں اور ان کے معنی خاتم رقس کے نقش پیدا کرنے کی طرح کسی نے کا دوسری میں اثر پیدا کرنا ہیں اور دوسری صورت حقیقی معنوں کی نقش کی طرح کی تاثیر کا اثر حا صل ہیں۔ختم اور طبع کے یہ دو حقیقی معنی بیان کرنے کے بعد امام را خب آگئے ختم کے مجازی معنیٰ یوں بیان کرتے ہیں۔ريجو زبذَالِكَ تَارَةً فِي الْاسْتِيثَاقِ مِنَ التي ووالمَنْعَ مِنْهُ إِعْتِبَارً ا بِمَا فَصَلَ مِنَ المنعم بالخثم عَلَى الْكُتُبِ وَالْأَبْوَابِ تَمْرُ ختم الله عَلَى قُلُوبِهِمْ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وقلبه وتارةً فِي تَحْصِيلِ أَثَرِ عَنْ شَيْ وَاعْتَبَارًا بالنَّقْشِ الْحَاصيل وتارة يعتَبَرُ مِنْهُ بلوغ الأخرة مِنْهُ قِيلَ خَمْتُ القران الى الميت إلى الخيرة : المفردات فی غریب القرآن زیر لفظ ختم ترجمہ اور حقیقی معنوں سے تجوز اختیار کر کے لینی مجاز کے طور پر کبھی ختم کے معنی کتابوں اور با ایران پر مہر لگانے کے لحاظ سے خوب