الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 31
۳۲ یا جماع علمائے لغت و با اتفاق عضلائے دنیا جب تک حقیقی معنی درست ہو سکیں۔اس وقت تک مجازی معنی کا اختیار کرنا باطل ہے۔لہذا پہلے اور دوسرے معنی ہر گز مراد نہیں ہو سکتے پوچھتے پانچویں معانی کا تو آیت میں کسی انسان کو دہم بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اس آیت میں نہ حقیقہ درست ہیں نہ مجازا۔انس طرح ساتویں معنی بعینی مر کا نقش یہ بھی حقیقی معنی کے لحاظ سے آیت میں مراد نہیں ہو سکتے اور میرے معنی بینی آخر قوم اور چھٹے معنی یعنی ختم کرنے والا۔یہ دونوں معنی آیت میں۔حقیقت کے اعتبار سے درست ہیں۔صرف اتنا فرق ہے کہ ان میں پہلے دونوں قراتوں یعنی خاتم بالکسرا اور خاتم بالفتح یہ درست ہیں۔اور دوسرے معنی ظرفیت خاتم بالکہ کے ساتھ مخصوص ہیں ! آگے لکھتے ہیں:۔حاصل معنی پہ غور کیا جائے تو دونوں کا خلاصہ صرف ایک بنی کھلتا ہے اور پنجا ظ مراد کہا جا سکتا ہے کہ دونوں قرآنوں پر آیت کے معنی نفتا یہی ہیں کہ آپ سب انبیاء علیہم السلام کے آخر ہیں۔آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا: (ختم بوت کامل ص) مفتی محمد شفیع صاحب نے لکھا تم النبین ببر تاء ہماری تنقید کے لئے چھٹے ملنے نبیوں کو ختم کرنے والا حقیقی معنے