الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 27
۲۸ وہ تحریر فرماتے ہیں :- سواگر اطلاق و محموم ہے تو تب تو خاتمیت زمانی ظاہر ہے ورنہ تسلیم از دوم خانیت زمانی بدلالت التزامی ظاہر ہے۔دستخذیر الناس صاف افسوس کی بات ہے کہ مولوی محمد شفیع خاتمیت زمانی کے یہ معنی لیتے ہیں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا خواہ ہ ایک پہلو سے امتی بھی ہو۔یہ معنی خاتمیت بالذات مرتبی کے صریح منافی اور متناقض ہیں۔کیونکہ خاتمیت بالذات یہ قرار دیتی ہے۔کہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلے اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو اس سے خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔با اتخذیر الناس ۲۵ ۲۸ بلحاظ ایڈیشن مختلف اور مولوی محمد شفیع خانیت محمدی کے یہ معنے لیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔خواہ وہ آپ کا اتنی ہی ہو۔اب ظاہر ہے اس معنی میں خاتمیت زمانی خاتمیت بالذات کی نقیض ہوئی۔اور لفظ خاتم ان دونوں معنوں میں نہ ایسا اشتراک ثابت ہوتا ہے کہ دونوں معنی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ذات میں صادق ہوں اور نہ ملزوم ولازم کا علاقہ پایا جاتا ہے کہ یہ دونوں معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں صادق ہوں میں مفتی صاحب کا خانیت زمانی کا مفہوم غلط ہوا کیونکہ اس سے اجتماع نقیضین لازم آرہا ہے جو محال ہے۔لہذا جو عقید استلا مال