الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 26
۲۷ دہ علاقہ یا اشتراک معنوی کا ہو سکتا ہے یا لازم وملز وہم کا۔اگر خشا تم کو علی الاطلاق ہے کہ اس میں ان دونوں معنوں کا اشتراک تسلیم کیا جائے تو یہ دونوں مینے بیک وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے شیب مانے اللہ وسلم کے۔جا سکتے ہیں جبکہ ان میں تناقض نہ پایا جائے۔کیو نکہ دو معنے جو ایک دوسرے کے نقیض ہوں وہ بیک وقت ایک ذات ہمیں صادق نہیں آسکتے۔اسی طرح اگر ایک معنی ملزوم قرار دیئے جائیں اور دوسرے معنوں کو ان ملزوم معنے کا لازم قرار دیا جائے تو اس صورت میں میں رہ دونوں معنی آئیں میں ایک دوسرے کی نقیض نہ ہونے چاہئیں۔کیو نکہ ایک ذات میں دو متناقض معنوں کا پایا جاتا محال ہے۔پس خاتم النبیین کے یہ دونوں معنے ایک دوسر سے تبائن کلی یا تناقض نہیں رکھ سکتے۔سو ظاہر ہے کہ خاتم کا اگر خانمیت بالذات مرتبی اور فانیت زمانی کے معنوں میں اشتراک قرار دیا جائے یا انہیں باہم ملزوم و لازم قرار دیا جائے۔ان دونوں صورتوں میں ان دونوں معنوں کو ایک دوسرے کا نقیض قرار نہیں دیا جا سکتا۔کیونکہ ایک ذات میں اجتماع النقیضین محال ہے۔مولانا محمد قاسم صاحب خاتم بالذات کے معنوں کو صفر در جانتے ہیں اور انہی معنوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالذات افضل النبيين ہونے کی دلیل قرار دیتے ہیں۔وہ اوپر کی دو صورتوں میں سے کسی نہ کسی صورت میں خاتمیت زمانی کا خاتم بالذات سے علاقہ ضروری قرار دیتے ہیں بالصورت اخلاق و عموم معنی خانم یا بصورت ملزوم و لازم چنانچه