الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 24
۲۵ یہ فرض رکھنے والی خانیت زمانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسے بنی کے آنے میں مانع نہیں ہو سکتی جو آپ کا امتی بھی ہو اور اس طرح آپ کی شریعیت کا تابع ہو اور کسی نئی شریعیت لانے کا مدعی نہ ہو بلکہ اس کی حیثیت کی غرض اشاعت دین محمد ہی ہو۔غرض مولانا محمد قاسم صاحب کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی امتی بنی کا پیدا ہونا خاتمیت بالذات مرتبی کا ہی فیض ہوگا۔اور خانمیست زبانی کے بھی خلاف نہ ہو گا۔مفتی محمد نہ مح شفیع کیا مگر اس سے کالا با ما در اتم النبيين کے معنے خانمیت بالذات مرتبی کر طرف نظرانداز کے کے مرن معنی کی خرابی خاقیت زمانی قرار دیتے ہیں اور یہ معنی بتاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وصف نبوت پانے میں تمام نبیوں سے آخری بٹی ہیں ان معنی کو درست قرار دینے کی صورت میں اگر بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی استی بنبی بھی پیدا ہو۔تو خاتمیت زمانی میں فرق آجاتا ہے۔حالا نکہ مولانا محمد قاسم صا حبہ خاتم النبیین کے معنے کے لحاظ سے فرما ہیں۔اس سے خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا یہ پس مولانا محمد قاسم صاحبت کے نزدیک مفتی محمد شفیع صاحب کے فائیت زمانی کے معنی درست قرار نہیں پاتے۔کیونکہ ان معنی سے مولانا محمد قاسم صاحب کا یہ بیان کہ خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا سراسر غلط اور جھوٹ قرار پاتا ہے۔صرف خانیت زمانی کو تسلیم کرنے اور خاتمیت