الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 21
۳۳ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افضل النبیین ہونے کا مستلزم بتاتے ہیں چنانچہ تحریر فرماتے ہیں: اگر خاتمیت معنی اتصاف ذاتی بوصف بہوت لیجئے۔جیسا کہ اس پیچدان نے عرض کیا ہے۔تو پھر سوائے رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے کسی اور کو افراد مقصود بالخلق میں مماثل نبوتی نہیں کہہ سکتے۔بلکہ اس صورت میں انبیاء کے افراد نائیجی را جہیاء سابقین - ناقل ہی پر آپ کی افضلیت ثابت نہ ہو گی۔افراد مقدره و جن انبیاء کا آئندہ بھیجا جانا مقدر ہے۔ناقل پر بھی آپ کی افضلیت ثابت ہو جائے گی۔بلکہ بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خامیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا : و تحذير الناس ۲۹ ۲۸ ممالا ایڈیشن مختلفی) مولانا محمد قاسم صاحب النحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی عالمیت یعنی اتصاف ذاتی بوصف نبوت قرار دینے کے ساتھ ہی یہ بھی انتے ہیں کہ یہ معنی خاتمیت زمانی کو بھی مستسلام ہیں۔مگر خاتمیت زمانی کا مفہوم آپ کے نزدیک یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شریعیت کا ملہ نانیوالے بنی ہیں جو تاقیامت قائم رہے گی۔اور آپ سے بعد آنے والے نہیوں کے لئے آپ آخری سند ہیں۔وہ آپ کی شریعیت کے کسی حکم کو نسونج نہیں کر سکتے۔اس طرح بالفرض جو نبی آپ کے بعد پیدا ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم