الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 20
ہوگا۔کہ تقدم اور تاخر زبانی میں بالذات کچھ فضلیت نہیں پھر متقام مدح میں وَلكِن رَّسُولُ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين A W فرمانا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے ؟ رفت) مولانا موصوف کے اس بیان سے یہ ہے کہ خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ت مین کے الفاظ قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محل مدح میں دارد ہیں۔اس لئے اس کے معنے محض آخرمی بنی درست نہیں۔کیونکہ اس سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی نہ کوئی مدرج ہوتی ہے۔اور نہ کوئی ذاتی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ تقدم اور تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔چنانچہ آپ مناظرہ مجیبہ کے مسئلہ پر بھی سکھتے ہیں: تاخیر زمانی افضلیت کے لئے موضوع نہیں۔افضلیت کو استلام نہیں۔افضلیت سے بالذات اس کو کچھ علاقہ نہیں۔ر مناظره مجربه ملام پس مولانا محمد قاسم علیہ الرحمتہ کے نزدیک خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ین کے اصل اور متقدم معنی یہ ہیں کہ آنحضرت مسلے اللہ علیہ وسلم کی نبوت بالذات ہے۔ان سنی کوده حاکمیت مرتبی بھی قرار دیتے ہیں اور ان معنی کے رو سے تمام ا<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>اء کی نبوت کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزر چکے ہیں یا بالعرض بعد آئیں۔آنحضرت سے اللہ علیہ وسلم کی نبوت بالذات کا فیض اور فرح قرار دیتے ہیں۔اور جسمانی آیت خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ین کے مطابق ان ا<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>اء کو آپ کی نسل اور آپ کو ابوالا<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>اء یعنی <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> الا<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>اء جانتے ہیں۔پھر انہی معنی کو آپ