الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 276 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 276

۲۷۷ اس شعر میں اکمل صاحب کی مراد در اصل محمد سے اطلال محمد یعینی مجددین امت محمدیہ ہیں۔ان مجددین میں سے وہ مسیح موعود کو شاہ محمدیت میں بڑھکرہ قرار دیتے ہیں۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام خود فرماتے ہیں۔بوز ترگمان و ہ ہم سے احمد کی شان ہے جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے اس لئے جماعت احمدیہ کا عقب وہ یہی ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی شان انسان کے وہم دونگان سے بھی بالا ہے۔اور مسیح موعود علیہ السلام آپ کے ایک خادم اور غلام کی حیثیت رکھتے ہیں۔اکمل صاحب کے شعر سے چونکہ وہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی تھی جو مفتی صاحب نے پیدا کرنا چاہتی ہے۔اس لئے اگست ۱۹۳۴ء کو میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں یہ شعر میں کیا۔چونکہ بظاہر یہ شعر بے ادبی پرشتمل نظر آتا تھا۔اس لئے حضور نے اسے ناپسند کیا اور بے ادبی قرار دیا۔ملاحظہ ہو الفضل ۱۹ اگست ۱۹۳۲ء۔اس کے بعد مفتی صاحب نے نزول مسیح منہ کا حوالہ دے کہ ذیل کی عبارت بھی پیش کی ہے :- محمد میں اور تمہارے میں بڑا فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے " رختم نبوت کامل نیا ایڈیشن من) ختم نبوت کامل کے نئے ایڈیشن سے پہلے ایڈیشن کے مسہ میں اس عبارت کا پہلا فقرہ یوں درج ہے :-