الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 271 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 271

۲۷۲ سو یہ نشان میں امام صدی کے لئے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے منیجر ہیں۔لہذا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشان بدر ہمار لی ہوئے۔کیونکہ ان سے استاد اور شاگرد دونوں کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔بعزت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے۔كَلَّ بَرَكَةٍ مِنْ هُ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم تمام بہ کنت ہو آپ کو حاصل ہے وہ محمد سلے اللہ علیہ وسلم سے ہے۔پس انسل مرجع ان تمام نشانات کا در اصل آخرت مسلے اللہ علیہ وسلم ہیں۔اورافضلیت النی کو حاصل ہے۔حضرت سیه موعود اصیل اسلام سورج چاند گرہن کے ذکر والے شہر کے آگے بحریہ فرماتے ہیں:۔والى ديرك المال مان محمد أما أنا لا اله الخير پس خلفائے اسلام اور مجتہدین عظام اور اولیاء کرام اور سیح موعود علیه اسلام کے ذریعہ تو کھو کھا نشانات اسلام و آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ثبوت میں ظاہر ہوئے حقیقت میں ان کو ابات و مجزات نور نشانات و فتوحات کا مرجع سرور کائنات حضرت محمد مصطلق الا اللہ میہ وسلم کی خوات یا بر کارت ہے۔اور ان بزرگوں کے ہاتھ پر جو کچھ ظاہر ہوا۔وہ آنحضرت لحظہ اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق ظاہر ہوا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قیصر و کسریٹی کی سلط نہیں مفتوح نہیں ہوئی تھیں مگران کی اتے نبی در اصل آنضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اعجازی قوت کا اثر ہے۔اس لئے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے تھیٹر کرنی