الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 257 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 257

یونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی تھیں اور شریعیت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔اس لئے خدا تعالے نے میری تعلیم کو اور اس دمی کو ہو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے" (حاشیہ اربعین ) ط اس عبارت سے ہی مفتی صاحب کو آسانی سے کچھ آجانا چاہئے تھا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا اربعین میں صاحب شریعیت مستحصلہ کا کوئی دعوی نہیں۔اور آپ پر ہو او ا مر جو نوا ہی نازل ہوئے۔وہ آپ کے بیان کے مطابق تجدید دین کے طور پہ ہیں شدہ اصل دین اور اعمل شریعیت کے طور پر۔اگر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا مستقل صاحب الشریعیت نبی کا دعوی ہوتا تو پھر تا ہے کی اس کتاب کے بعد سن ایڈ کئے اشتہار ایک غلطی کا ازالہ میں آپ کبھی یہ نہ لکھتے ہو۔جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے گیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعیت کا خیوان نہیں ہوں۔اور نہ یکی مستقل طور پر نبی ہوں۔مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر ان کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طورہ کا نبی کہلانے سے لیکں نے کبھی انکار نہیں کیا۔بلکہ انسٹی جنون سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سو اب بھی ہیں