الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 256 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 256

۲۵۷۔۔۔۔کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔۔۔۔۔مش قل للمومنين ينسوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَاتقوا رجم لك أڈ کی تقسیم به بن امین احمدیہ میں درجع ہے اور اس میں امر ہی ہے اور بیٹی بھی اور اس پیئیں۔اتنا کی تی سی گور گئی۔اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں رہ نہیں ہوتے ہیں اور نبی بھی۔الا افسوس ہے کہ مفتی صاحب نے کسی مخالف کی کتاب سے حوالہ لے کہ یہ عبارت تو درج گردی ہے اور اصل کتاب اربعین ملاحظہ نہیں کی جس میں آگے صاف ہے -15 ہمارا بان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانہاد ہے۔اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے۔تا ہم خداتعالی نے اپنے ضائع یہ حرام نہیں گیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور نامور کے ذریعہ یہ احکام ہے اور کرے کہ جھوٹ نہ بولور کجھوٹی گواہی نہ دو۔زنا نہ کرو۔نون زکرو اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا بیان شریعت ہے جوسیع موتور کا بھی کام ہے۔اربعین کے وارے اس سے ظاہر ہے کہ آپ پر جو اوامر و نواہی نازل ہوئے وہ بطور تجدید دین اور بیان شریعیت کے ہیں نہ اس لئے کہ آپ مستقل طور پر صاحب الشریعیت بنی ہیں۔عجیب بات ہے کہ ذیل کی عبارت مفتی صاحب خود اپنی کتاب میں ذرج کرتے ہیں کہ :۔