الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 255
PAY کے ذیل میں مفتی صاحب نے تشریعی نبوت اور صاحب شریعیت نبی ہونے کا دعوی " کے عنوان کے ذیل میں سن 19ء کی کتاب اربعین کی ایک عبارت پیش کر دی ہے۔حالانکہ اس زمانہ میں تعریف نبوت میں تبدیلی کا کوئی ثبوت اس کتاب میں موجود نہیں۔بینکہ اس کتاب میں آپ نے معروف تعریف نبوت کے بالمقابل اپنے تئیں محض مجازی نبی ہی قرار دیا ہے۔مفتی صاحب نے اربعین کی عبارت اس لئے پیش کی ہے کہ اس میں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اوپر اوامر و نواہی کے نزول کا ذکر ایسی ہے کے زمانہ سے کیا ہے جو ململانے کی کتاب ہے۔پس اگر او امر و نواہی کے نزول کی وجہ سے مفتی صاحب کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو تشریعی نبی کا مری قرار دینے کا حق پہنچتا ہے تو پھر تو انہیں چاہیئے تھا کہ نشانہ سے آپ کو تشریعی نبوت کا مدعی قرار دیتے نہ کہ مشتملت کے بعد اپنے مزعوم تیرے دور ہیں۔بہر حال مفتی صاحب کی اربعین سے پیش کردہ عبادت یہ ہے۔اگر کسو صاحب الشرعیت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ مراد کیک مفتری اند اول تو یہ و قوسی ہے دلیل ہے۔خدا نے افتراء کے ساتھ شریعیت کی کوئی قید نہیں لگائی کا سوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعیت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریہ چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کیلئے ایک قانون مقررہ کیا وہی صاحب الشر یحیت ہوگیا پس اس تعریف کی رو سے ہمارے مخالف سلام میں