الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 253
صاف لکھتے ہیں For۔اس عاجہ نے کبھی اور کسی دقت تحقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعوی نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے نام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزمہ کفر نہیں مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا۔کہ اس میں عام مسلمانوں کو میں ہے جانے کا استعمال ہے۔لیکن وہ مکانات اور مخاطبات جو اللہ جل شانہ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جوں ہی ہے لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مختفی نہیں لکھ سکتا۔لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان العلامات میں جو لفظ مرسل یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے وہ اپنے حقیقی معنوں پرست عمل نہیں ہے اور اصل حقیقت جس کی ہیں علی عدس الاشتماد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء میں ملاپ کے بعد کوئی بھی نہیں کیا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا وَمَنْ قَالَ بَعْدَ رَسُولنا و سيدنا إلي نبي او رسول على وجه الحقيقة والانتراء وَتَرْكِ الْقُرآنِ واحكام الشربية القراء فهو فرصة اب۔غرض جہاں مذہب یہی ہے که تو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعوی کرے اور آنحضرت علی باشد علیہ وسلم کے دامین فیوض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس