الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 242 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 242

۲۲۳ اپنے پنی سیلہ اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے ہم میں جو کچھ ملتا ہے علی اور فضیل طور پر ملتا ہے۔راز الها و ناهم عشا اس بیان سے ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک علی مراتب جو انبات نبوی سے میل ہوتے ہیں ان کے حصول میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غیرت نہیں ہوتی انداختی نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو اسلی نہی ہیں عقلیت کے پہلو صلی اللہ کا جوا میں قیر نہیں کہ اس سے کسی نئے نبی کا پیدا ہونا لازمہ آنے بار خیلی سنی کی نسبت اصل کی ذریع اور شاخ کی ہوتی ہے جو اصل کے تابع اور اس کے حکم میں ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کشتی نوح مطبوعہ منہ میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔عقیدہ کے رو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نبی ہے اور وہ خانم کا زیاد ہے اور سب سے بڑھ کر ہے اب بعد اس کے کوئی نہیں نہیں مگر وہی ہیں پر بروزی طور سے محمد یت کی چادر پہنائی گئی۔کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدا نہیں اور نہ شارع اپنی ایز سے جدا ہے۔پس جو کامل اور پیت دم میں فنا ہو کہ بندا ہے نین کا لقب پاتا ہے وہ ختم نبوت کا حلل انداز نہیں جیسا کا قیم جب آئینہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہو سکتے بلکہ ایک ہی بود گر چہ بظاہر دو نظر آتے ہیں صرف ظل اور اس کا فرق ہے