الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 238
۲۳۹ معنی کی روشنی میں امام موصوف نے صاحبزادہ ابراہیمہ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نقاش لَكَانَ صِدِّيقًا نَیا کی یہ تشریح کی۔اگر صاحبزادہ ابراہیم زندہ رہتے اور بنی ہو جاتے تو وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے تابعین میں سے ہوتے۔اور ان کا بنی ہوتا خاتم النبین کے خلاف نہ ہوتا۔آمد ثانی پر حضرت میلے علیہ السلام کی نبوت کے پیش نظر بھی انہوں نے تحریر فرمایا ہے :۔لا منافاة بين ان تكونَ نَبِيًّا وان تكون متابعًا ينتنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيَانِ احکام شریعتِهِ وَ اثْنَانِ طَرِيقَتِهِ وَلَوْ بِالْوَتِي اليه امرقاۃ شرح مشکواة ) جلد ۵ ۵۶۲۰ یعنی حضرت عیسے کے بنی ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونے میں کوئی منافات نہیں بدین صورت کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے احکام بیان کریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طریقی کو پختہ کریں۔خواہ وہ یہ کام اپنی وحی سے کریں۔اسی طرح علمائے اہل السنت میں سے مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی اپنی کتاب دافع الوسواس فی اثر ابن عباس میں تحریر فرماتے ہیں۔بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یا زمانے میں آنحضرت صلے الہ علیہ وسلم کے مجرد کسی بہنی کا آنا محال نہیں بلکہ نھی شریعیت الا