الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 227 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 227

جاتے ہیں خواہ وہ نبی ہوں یا رسول با محدت اور مجید مون که رایم اصلی انیم اسی طرح حمامہ انشرکی میں بھی ہیں کا حوالہ مفتی صاحب نے القصارع نبوت کے متعلق دیا ہے۔تحریر فرماتے ہیں :- r و اي والله أو مِن بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ رَاوَمِن بِانَّهُ امُ النَّبِيِّينَ نَعَمْ تُلْتُ إِنَّ أَجْزَاء التَّبَوَةِ تُوجد في التَّحْدِيثِ كُلَّمَاءَ لَكِن بِالقُوي لا بالفعل فالمحدث نَبِيُّ بِالقوة ولو لم كن سد باب اللبوة لكانَ نَبِيًّا بالفعل وجاز على عدا أن نقول التي تحدث عَلَى وجه الكمال لانه جامع لجميع كما لايم على الوجه الاسم : ابلغ بِالْفِعْلِ وَكَذَالك جاز أن نقول إنَّ الْمُثَ نَبِيَّ بِنَاءِ عَلَى يَخْدَادِهِ الباحتِي اَغْنِى أَنَّ الـ المُحد ثاني بالقوة وحماته العشرى علام ترجمہ یقینا میں اللہ کی تسم۔اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں ارسانیان بکتے ہوں کہ وہ خاتم النہیں ہیں۔شمال میں نے کہا ہے کہ اجزا د نبوت رکھتا تمام کے تمام تحدیث میں پائے جاتے ہیں لیکن با لفوظ نہ کہ بالفعل اور محبت با تقوہ نہیں ہے اور اگر سورت کا دروازہ بند نہ ہوتا تو وہ بالفعل نہیں ہوتا اورے اس بناء کچھ جائز ہے کہ ہم یہ کہیں کہ نبی علی وجہ العمال محدث ہوتا