الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 226
pre اپنے نزول کے وقت کامل طور پر اتنی ہو گا تو پیر با وجود آنتی ہونے کے کسی طرح رسول نہیں جونکتا ہو کیونکہ رسول اور ر اقتی کا مفہوم متبات ہے اور نیز خاتم النبین ہونا ہما ر سے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کا کسی دوسرے بیٹی کے آنے سے مانع ہے۔ہارا لیا نی جو مشکوۃ نبوت محمد سے اور حاصل کرتا ہے اور نبوت نامری ہیں رکھتا جس کو دوسرے لفظوں میں محترمت بھی کہتے ہیں وہ اس سے باہر ہے۔کیونکہ وہ بباعث اتباع اور فنانی ، ریسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں بیا داخل ہے ہے جیسے جرا کل میں داخل ہوتی ہے" (ازالہ اونام ۵۷۶۵ پھڑایام الصلح میں جہاں آپ نے یہ لکھا ہے کہ :۔قرآن شریعت میں ختم نبوت کا ایمان تصریح ذکر ہے اور پرانے اور نے نبی کی تفریق کرنا شرارت ہے۔حدیث لا نبی بعدی میں نقی نام ہے؟ رایام الصلح ( بحوالہ کتاب مفتی صاحب اس کتاب میں اپنے آپ کو مسیح موجود بھی کیا ہے اور س ع موجود کی نبوت کے پیش نظر یہ بھی سکتا ہے:۔قرآن شریف میں ہے فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدٌ إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُول یعنی کامل طور پر منیب کا بیان کرنا صرف رسولوں کا کام ہے دوسرے کہ یہ مرتبہ عطا نہیں ہوتا۔رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں تو خدا تعالے کی طرف سے بھیجے