الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 223
۲۲۴ محال ہے کیونکہ انتی اور <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کا مفہوم یا ہم تہائن اور تناقض رکھتا ہے اور یہ محال ہے کہ آمدثانی میں حضرت جھیلئے علیہ السلام نبوت سے معزول بھی نہ ہوں اور کامل امتی بھی ہوں جیسا کہ مفتی صاحب کا خیال ہے جو ان کی کتاب ختم نبوت کامل کے ۳۔ظاہر ہے جس کا ذکر تیل ازیں کر کے ہم ان کے اس خیال کی تردید کر چکے ہیں۔پس حضرت میلے علیہ السلام <mark>تشریعی</mark> <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> یا مستقل <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کی حیثیت میں اور اسلامی تعریف نبوت کو درست ماننے کی صورت میں <mark>نہی</mark>ں آسکتے۔لہذا یہ تعریف ہونے ان کے نزدیک جامع نہ ہوئی اس صورت میں اگر مفتی صاحب اس تعریف عبرت کا استقرائی ہونا مان لیں اور تسلیم کرلیں کہ یہ تعریف نبوت الهامی <mark>نہی</mark>ں جبکہ ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ائے سابقین کے افراد کو مد نظر ر کھنگر ان میں امور مشترکہ کے تتبع سے اختیار کی گئی ہے۔تو پھر ا<mark>نہی</mark>ں یہ حق پہنچتا ہے کہ <mark>خاتم</mark> ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ن کے امام علی القاری صیہ الرحمتہ کے معنے درست مان ہیں کہ <mark>خاتم</mark> الفتین کے مینی ہیں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> <mark>نہی</mark>ں آسکتا۔جو آپ کی <mark>شریعت</mark> کو خشوع کرے۔اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔(موضوعات کبیر ۵۹) اس صورت میں عورت <mark>تشریعی</mark> یا مستقلہ نبوت اور امنیت میں تناقض اور تبائن ہو گا۔لیکن نبوت مطلقہ اور امنیت میں تناقض نہ ہوگا۔اور منتی نی کی کو ختم نبوت کے منافی ہو کر ممتنع نہ ہوگی۔اس صورت میں اگر بالفرضن حضرت بیٹے علیہ السلام زندہ ہوں تو اس نئی قسیم بوت کے ساتھ جس کا کوئی فرد ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ائے سابقین میں <mark>نہی</mark>ں ایا گیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آسکتے ہیں۔مگر اس صورت میں نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انتی کو بھی یہ حق پہنچ جاتا ہے کہ وہ بوت