الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 222
۲۲۳ احکام شریعیت سابقہ منسوخ کرتا ہے گویا وہ بھی تشریعی <mark><mark>نبی</mark></mark> ہوتا ہے یا نجی اور رسول کے لئے کم از کم یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ کسی دوسرے <mark><mark>نبی</mark></mark> کا اشتی نہیں ہوتا اور بلا استفادہ کسی بنی کے خدا تعالے سے تعلق رکھتا ہے۔گویا اپنے <mark><mark>نبی</mark></mark> کے لئے مستقل <mark><mark>نبی</mark></mark> ہونا ضروری ہے۔خدا تعالے سے بنی کا نام پاکر ساتھ ہی امتی کہلانے والا اس اصطلاح کے رو سے ہی نہیں ہوتا۔اس <mark>تعریف</mark> کے رو سے حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ نے اپنے آپ کو نہ سنتی صاحب کے معلومہ پہلے دور میں کبھی <mark><mark>نبی</mark></mark> قرار دیا ہے اور نہ ہی اپنی ساری زندگی میں اس کے بعد کبھی اس اصطلاح اور ان معنی میں <mark><mark>نبی</mark></mark> قرار دیا ہے۔آپ نے ہمیشہ اپنے نیں ایک پہلو سے بنی اور ایک پہلو سے اتنی ہی قرار دیا ہے کی اصطلاح کے مقابلہ میں اپنے تئیں مجازی بنی ہی لکھا ہے۔پس اس <mark>تعریف</mark> <mark><mark>نبوت</mark></mark> کر دو دست اتنے کی صورت میں خاتم ال<mark><mark>نبی</mark></mark>ین کے یہ معنی ہوئے کہ تختی سلے <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے بعد کوئی تشریعی <mark><mark>نبی</mark></mark> یا مستقل <mark><mark>نبی</mark></mark> نہیں آسکتا۔اور جس کو ضائعا لئے آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے بعد <mark><mark>نبی</mark></mark> اور رسول قرار دے وہ اس اصطلاح کے پشین نظر <mark>حقیقی</mark> بنی نہیں ہوگا بلکہ اس پر مجاز ہی بینی اور رسول کے لفظ کا اطلاق ہو سکے گا۔لہذا یہ <mark>تعریف</mark> <mark><mark>نبوت</mark></mark> حضرت پہلے علیہ السلام کے لئے جو مستقل نہیں تھے انحصرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے بعد آنے میں روک ہے کیونکہ اس آمریعنی کے لحاظ سے کوئی نتی آتی نہیں کہلاتا۔اور منفرت کیلئے علیہ السلام جو کہ مستقل بنی ہیں اس لئے اس <mark>تعریف</mark> کو صحیح سمجھتے ہوئے ان کا آنحضرت مسیلے <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کا کامل اتی ہو کر انا