الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 219 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 219

اب اگر مفتی صاحب یہ تاویل کریں کہ حضرت یلئے علیہ السلام جو پرانے نی میں مستقل بنی کی حیثیت میں نہیں آئیں گے بلکہ وہ بنی ہونے کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انتی بھی ہوں گے تو اس طرح انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایک نبی کی بحیثیت آنحضرت مسلے اللہ علیہ وسلم کے اتنی کی آمد نہ آیت خاتم النبین کے مناتی ہے اور نہ حدیث لا نبی بعدی کے خلاف ہے۔اور لائیتی بعد می میں نقی عام تشریعی یا ستقل بنی کے لحاظ سے ہے۔اس صورت میں ظاہر ہے کہ ایک امتی بھی اس طرح مقامم نبوت پاسکتا ہے۔کہ وہ ایک پہلو سے امتی ہو اور ایک پہلو سے بھی بھی۔گو اس جگہ اس بحث کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ حضرت علی علیہ اسلام جو مستقل بھی ہیں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے کامل اتنی کیسے بن سکتے ہیں جبکہ مفتی صاحب کے ریویو پر مباحثہ کے حوالہ اور ازالہ او نام کی عبارت میں آنتی کا مفہومہ بنی کے معصوم سے متناقض اور مقیائی قرار دیا گیا ہے اور مفتی صاحب ان عبارتوں کو بھی اسلامی نظریہ اور مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ قرار دے چکے ہیں۔یہ ہر دو عبارتیں مفتی صاحیے پہلا دوڑ کے عنوان کے ماتحت اپنی کتاب کے وکلا پر یوں درج کی ہیں۔(1) یہ دونوں حقیقتیں رنبوت اور امنیت - ناقل متنا محض ہیں۔ریویو به مباحثه مش (۲) رسول اور راستی کا مفہوم مشہائن ہے (ازالہ اوہام علی کے حوالہ مباحثہ راولپنڈی جنگل