الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 218 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 218

۲۱۹ کی جب حضرت بائی سلسلہ احمدیہ ان کے نزدیک سب مسلمانوں طرح مسلمان تھے۔۔۔۔۔اور امت کے اجماعی عقائد و نظریات کو بلا کسی جدید تا ویل و تعریف کے تسلیم کرتے تھے اور ایک مبلغ اسلام کی حیثیت سے کچھ چیزیں لکھتے تھے۔ختم نبوت کامل ہے مفتی صاحب نے دور اول کے متعلق ختم نبوت کے جو توالہ جات پیش کئے ہیں ان میں سے یہ حوالہ قابل غور ہے جس کی طرف میں مفتی صاحب کو توجہ دلاتا ہوں۔یہ حوالہ مفتی صاحب نے اپنی کتاب کے مڑا پر یوں درج کیا ہے قرآن شریعت میں ختم نبوت کا کمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نے نجی کی تفریق کرنا مشرارت ہے۔حدیث لا نبی بعدی میں نفی عام ہے۔ایام الصلح ملی) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے نزدیک آیت خاتم النبین اور حدیث لا نبی بعدی کے رو سے نہ کوئی پرانا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آسکتا ہے اور نہ نہا نبی پیدا ہو سکتا ہے مفتی صاحب نے اس عبارت کو مسلمانوں کے اجتماعی عقیدہ اور نظریے کے مطابق درست مان لیا ہے۔اما احضرت علی بنی الہ علیہ السلام جو پرانے نبی ہیں کی اصالت آمدثانی آیت خاتم النبین اور حدیث لا نبی بعدی کے رو سے غلط قرار پاتی ہے۔اور مفتی صاحب نے گویا نا دانستہ اس حوالہ کو تسلیم کر کے قبول کر لیا ہے کہ پرانے نبی کی آمد کے متبع ہونے کا عقیدہ بھی درست ہے جس طرح نئے بنی کے پیدا نہ ہونے کا عقیدہ درست ہے۔