الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 214
۲۱۵ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا توسحَانَ الْإِيْمَانُ عِندَ الدُّيَّا لَنَا لَهُ رَجُل مَنْ فَارِسَ أَوْ رِجَالُ مِنْ فارش پس اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آخری زمانہ میں فارسی الاصل لوگوں میں سے ایک آدمی پیدا ہو گا۔کہ وہ ایمان میں ایسا مضبوط ہوگا کہ اگرایان تریا میں ہوتا تو وہیں سے اس کو لے آتا اور ایک دوسری حدیث میں اسی شخص کو مندی کے لفظ سے موسوم کیا گیاہے اور اس کا ظہور آخری زمانہ میں بلا مشرقیہ سے قرار دیا گیا ہے اور اقبال کا ظہور بھی آخری زمانہ میں بلا دستر فیہ سے قرار دیا گیا ہے۔ان دونوں حدیثیوں کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص معلوم د قبال کے مقابل پر آنے والا ہے وہ ہی شخص ہے۔اور نہ اللہ بھی اسی بات کو چاہتی ہے کہ جس ملک میں دجالی جیسا خبیث پیدا ہوا۔اسی ملک میں وہ لیب بھی پیدا ہو۔آئینہ کمالات اسلام مام) آگے صفحہ ۲۱۹ پر منظر یہ فرماتے ہیں :- اس آیت و اخرينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَقُوا بِهِمْ کے تمام حروف کے اعداد جو ۱۲۷۵ ہیں۔اس بات کی طرف اشارہ کر دیا جو اخرين منهم کا مصداق بنارسی الاصل ہے اپنے نشاء ظاہر کا بلوغ اس سین میں پورا کر کے صحابہ سے مناسبت پیدا کر گئے سویسی سن ۱۲۷۵ هجری جوایت و اخرين منهم لما يلحقوا پوستم کے حروف کے اعداد سے ظاہر ہوتا ہے اس معاینہ کی میلون بلوغ