الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 199 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 199

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلہ بھی جاری رہنا بلایا اور اپنے حق ہیں اسی جباری نہ جینے والی نبوت کے مدعی بن گئے۔تمیرا دور وہ تھا جس میں تاویل و تعریف سے بے نیاز ہو کہ کھلے طور پر ہر قسم کی نبوت کا جا تعریق تشریعی دغیر تشریعی کے سلسلے ارت فرانہ دیتے اور خود کو صاحب شریعت بنی ستیلا یا ت رختم نبوت کامل ) یہ امر واضح رہے کہ مفتی صاحب کا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر یہ الزام کہانی عمر کے کسی حصہ میں آپ نے ختم نبوت کا انکار کیا ہے سراسر افتراء ہے جن تین ادوار کا مفتی صاحب نے بزعم خود ذکر کیا ہے اس سارے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین یقین کرتے رہے ہیں اور شروع سے لے کرتا وفات آپ کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ آشخصیت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہونے کی وجہ سے آخری نشریعی اور آخری منتقل بنی ہیں۔اور کوئی شریعیت جدیدہ لانے والا بنی یا مستقل بنی آپ کے بعد نہیں آسکتا۔ہاں آپ کی پیروی اور آپ کے افاضہ روحانیہ سے فیض پا کر اور آپ کی مشکوۃ رسالت سے نور حاصل کر کے ملی طور پر آپ کا ایک اہمتی مقام نبوت کو اس طرح حاصل کر سکتا ہے کہ وہ ایک پہلو سے بنی ہوا در ایک پہلو سے امتی۔آپ نے مصروف اصطلاحی تعریف نبوت کے بالمقابل جس میں بنی کے لئے یا شریعت لانا ضروری کیا جاتا تھا۔یا بلا استفادہ بنی سابق کے مقام نبوت پر سرفراز ہونا یعنی مستقل نہی ہوتا اپنی نبوت کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم