الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 190 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 190

191 سے فرمائندہ (مکتوبات جلدا هست) یعنی جیسے حضرت <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کریم نسلی اللہ علیہ وسلم نے وہ علوم وھی سے حاصل کرتے تھے یہ بزرگان ملت الہام کے ذریعہ وہی علوم اصل یعنی خدا تعالیٰ سے حاصل کرتے ہیں اور عام علماء ان علوم کو سر میتونی سے اختہ کر کے بطریق اجمال پیش کرتے ہیں وہی علوم میں طرح ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء کو تفصیلاً اور کشفا حاصل ہوں ہیں۔ان بزرگوں کو بھی اسی طرح حاصل ہوتے ہیں۔صرف اصالت اور تحقیت یعنی اصل اور تحمل کا فرق در میان ہوتا ہے۔ایسے بزرگ لوگوں کو لیے زمانہ کے نہ کیا جاتا ہے۔است سید اسمعیل بشیر منصب امامت راست پر تحر یہ فرماتے ہیں۔باید دانست از انجمله العام است همین الهام که با <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء الله ثابت است آنرا در حی گوشند و اگر بغیر ایشان ثابت میشود اور استحدیث مے گولنار نکا ہے در کتاب الله مطلق الله الس<mark>امر</mark>ا خواه با <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء ثابت می شود خواه با دلیاء اللہ وحی نامند یا یعنی خدا تعالے کی نعمتوں میں سے ایک انعام کسی ہے۔یہیں انعام ہو ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء کو ہوتا ہے اس کو دھی کہتے ہیں اور جو ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء کے غیر کو ہوتا ہے تو اس کو تحدیث کتنے میں کبھی مطلق العام کو خوا و انبسیار کو ہو یا اولیاء کو قرآن سپید کے رو سے وحی کہتے ہیں۔پس جب بقول مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کاس اولیاء اللہ پہ قرآن کے علوم تفسیل اور کشفا کھولے جاتے ہیں اور بقول سید الکفیل کیا شہید