الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 189
۱۹۰ مکاشفات اور الہامات کے ذریعہ اپنے کلام معنی اپنی کتاب قرآن مجید اور اپنے رسول حضرت محمد مصطفے سے اللہ علیہ وسلم کے کلام کے حقائق اور معاد ظاہر کرتا چلا آیا ہے۔جو اپنے اندر معارف قرآنیہ اور حد یہ کا ایک انے وال خودانہ رکھتے ہیں۔حضرت شیخ عبد القادر جیلانی جو اپنی صدی کے مجدد تھے فرماتے ہیں۔يخبرنا إلى سرايرنَا مَعَاني كلام وكلام رَسُولِهِ وَصاحِبٌ هَذَا الْمَقَامِ مِنْ أَنْبِيَاءِ الأولياء - اليوانيت والجواہر کہ اللہ ہمارے باطن میں ہمیں اپنے کلام اور اپنے رسول کے کلام سے آگاہ کرتا رہتا ہے اور یہ مقام نہ کھنے والا شخص انبیا ءالاولیاء میں سے یہ نہ و ہوتا ہے۔حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ تحریہ فرماتے ہیں :۔این همچنانکه بنی علیہ الصلوة والسلام آل علوم را از دهی حاصل نے کرد بطریق الهام را از اصل انفذ می کنند۔علماء این علوم را از شرائع اخذ کرده بدین اجمال آورده اند یہاں علوم چنانچہ انبیاء علیهم الصلوة والسلام را حاصل بود تفصیلاً كشفاً ایشان را نیز بیمان وجوه حاصل می شود اصالت و تبعیت در میان است۔بایی قسم کمال ادنیا ئے مکمل بعضی ازیشان را از قرون متطاوله و از منه متساعده انتخاب