الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 185
TAY نے مجھے کو اس زمانہ کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے۔تا وہ غلطیاں جو بجز ضد اتنا لنے کی خاص تائید کے مکمل نہیں سکتی تھیں۔مسلمانوں کے بیانات سے نکالی جائیں۔اور شکرین کو بیچتے اور زیادہ خدا کا ثبوت دیا جائے۔اور اسلام کی عظمت اور حقیقت تازہ نشانوں سے ثابت کی جائے۔سو یہی ہو رہا ہے۔(برکات الدعامة انا ) جناب مفتی صاحب نے اس معیار کو بدیں وجہ رہ گیا ہے کہ ان کے نزدیک دیہ ایک اللہ غریب اور خوشنما تدبیر ہے کیونکہ اولیاء و محدثین کے مکاشفات و شل نفس و شیطان سے معصوم نہیں تخیلات وی رسول اور قرآن مجید کے کہ وہ اس سے بالکل پاک اور معصوم ہیں میں کے ساتھ خدا کی پولیس رفرشتے آگے پیچھے حفاظت کے لئے آتے ہیں چنانچہ ارشاد ہے ومن خلفه رصدا۔ایک رصد پیش بھیجتا ہے پس ایک معصوم کلام کی مراد غیر معصوم کشف پر موقوف نہیں ہوسکتی تمام معیار دن کا لب لباب اور ملالہ یہ ساتواں معیار ٹھٹھرا اور اس کا محاصل یہ ہوا کہ تفسیر قرآن دو معتبر ہے جو مرزا صاحب فرمائیں نے ختم نبوت کامل کا 120 واضح ہو کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا مومی مسیح موعود کا ہے۔الجواب اور مسیح موعود رسول اور مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی میں اس کی شان میں حلماً عدلا کے الفاظ دارد ہیں پس اگر اس کی تغیر قوم کے لئے محبت نہیں زدہ حکم دعدل کیسے ہوسکتا ہے