الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 184
AD ہماری نظر کے سامنے <mark>نہی</mark>ں ، اور نہ ہونا ممکن ہے۔اور نہ ان کا کوئی نمونہ موجو د ہے ، بات یوں <mark>نہی</mark>ں ہے کیونکہ اگر اسیا ہوتا می سلام زندہ مذہب نہ کھلا سکتا بلکہ اور مذہبوں کی طرح۔میں مردہ مذہب ہوتا۔اور اس صورت میں اعتقاد مسئلہ نبوت بھی صرف ایک قصہ ہوتا <mark>نہی</mark>ں کا گر رشتہ قرنوں کی طرف حوالہ دیا جاتا۔مگر خدا تعالے نے ایسا <mark>نہی</mark>ں چاہا۔کیونکہ وہ خوب جانتا تھا کہ اسلام کے زندہ ہونے کا ثبوت اور بلوت کی نفی حقیقت جو ہمیشہ ہر ایک زمانہ میں منکرین و ہی کو ساکت کر سکے اسی حالت میں قائم رہ سکتی ہے کہ سلسلہ وی برنگ محدثیت ہدیہ کے لئے جاری رہے۔سو اس نے ایسا ہی کیا۔محدث وہ لوگ ہیں۔جو شرف مکالمہ ا<mark>نہی</mark> سے مشرف ہوتے ہیں۔اور ان کا جو نپرس ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء کے جو ہر نفس سے اللہ مشابہت رکھتا ہے۔اور وہ خواب نجیبہ نبوت کے لئے بطور آیات باقیہ کے ہوتے ہیں۔نا یہ قیق مسئلہ نزول وحی کا اسی زمانہ میں ہے ثبوت ہو کر صرف بطور قعہ کے نہ ہو جائے۔اور یہ خیال ہرگز درست <mark>نہی</mark>ں کہ ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء علیہ السلام دنیا سے بے وارث ہی گزر گئے اور اب ان کی نسبت کچھ رائے ظاہر کرنا بھر قصہ خوانی کے اور کچھ زیادہ وقعت <mark>نہی</mark>ں رکھتا۔بلکہ ہر ایک صدی میں ضرورت کے وقت ان کے دارش پیدا ہوتے رہے ہیں۔اور اس صدی میں یہ عاجزہ ہے۔قد افعانی