الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 152 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 152

۱۵۳ کا باعث ہوگا یا پہلے سے زیادہ روشنی کا یا ان گشت ستارے غائب ہو کر آفتاب عالمتاب سامنے آجائے تو یہ ظلمت کا سبب ہوگا یا پہلے سے کہیں زائد نور کا یہ عالمگیر رحمت بنی الانبیاء سید الاولین والآخرين خاتم النبتين صلے اللہ علیہ وسلم کی صورت مبارکہ میں ظاہر ہوتی جو تمام انبیاء ڈرسل کے کمالات کے جامع اور اس کی مصداق ہے۔حسن یوسف دم جیسے ید بیضا داری آنچه کو ہاں ہمہ دارند تو تنها داری انبیاء سابقین اپنی اپنی حد میں سب شیع ہدایت تھے لیکن جب یہ ماہتاب روشن ہو گیا تو سب کی روشنی اس کی روشنی میں مغلوب ہو گئی۔اور اب سارے عالم کی تنویر کے لئے تنا ہی کافی ہوگیا۔آفتاب نبوت جلوہ آرا ہو گیا اور وہ ستارے اپنی اپنی جگہ پریسی آب و تاب کے ساتھ ہونے کے باوجود آفتاب کی روشنی میں طاہر نہیں ہوسکتے اور اب سارے عالم کی نظریں اس کرہ نور کو کھیتی اور اسی کی نیا گستری پر عالم کے ظلمت ولوں کا مدار ظھر گیا۔مفتی صاحب نے اس جگہ نبوت کی رحمت کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل چھوٹی چھوٹی نالیوں اور معمولی بارش سے تعبیر کیا ہے اور آپ کے مقابلہ میں تمام انبیاء کو بطور ستاروں کے ماند قرار دیا ہے۔لہذا