الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 147
۱۴۸ کے طور میں موثر ذریعہ ہیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک ایج قرأت خاتم النبین کی ت کی زہر سے ہے۔چنانچه تغییر در منشور بلده عنکنا پر زیر آیت خاتم النبین به روایت دراج ہے کہ ابن الانباری نے کتاب المصاحت میں لکھا ہے کہ عبد الرحمن مسلمی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنھا کو قرآن مجید پڑھانے پر مقرر کیا ہوا تھا۔اور میں قرآن مجید پڑھا رہاتھا علی میں خاتم النبیین کی اس پر آپ نے فرمایا اللہ کریں کھا ا ا ا شر فتنہ پاس سے گزرے۔اس مجھے توفیق دے۔میرے بچوں اس سے ظاہر ہے سالی زبیر سے پڑھا - شب خاتم النبیین خاتم میں ت کی زیر سے پیدا ہوسکتا تھا کہ سب قسم کے بنی ختم ہو گئے۔پیس گو یہ قرآن بھی موجود ہے اور اس کے حقیقی معنے بھی مہر لگانے والا ہیں لیکن اس قرآت سے ہر قسم کی نبوت کے مند ہونے کی طرف بھی ذہین منتقل ہو سکتا تھا۔جیسے کہ مفتی صاحب کا زمین اپنی مجازی معنوں کی طرف منتقل ہوا ہے اس لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پسند نہ کیا کہ ان کے بیٹے اس دھوکے میں پڑ جائیں کہ رسول کریم صلی شد علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا یہی بنی نہیں آئے گا۔لغت کی رو سے خاتم النبین کے حقیقی معنی نہیوں کے لئے روحانی خاتم کے ہی ہو سکتے ہیں۔خاتم النبین کے اللہ وانیوں کے لئے موثر ذریعہ کے معنوں میں حضرت علی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو بالذات اور باقی تمام انبیاء کی