الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 144
۱۴۵ کرتا تھا اُسے علوم ہو جانا چاہیئے کہ آپ وفات پاچکے ہیں اور جو اللہ تعالی کی عبادت کرتا ہے اُسے معلوم ہونا چاہیئے۔کہ خدا زندہ ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولُ قد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُل۔یہ آیت سنتے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قدم ایڈ کھڑا گئے اور تلوار ہاتھ سے گر گئی۔اور صحابہ رضوان در صحابه رضوان الله علیهم اجمعین میں سے کسی نے یہ نہ کہا کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو آنحضرت صلی اشہ لیہ وسلم کیسے وفات پاسکتے ہیں۔پس یہ واقعہ صحابہ کرام کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے تمام انبیاء کی وفات پر اجماع کی روشن دلیل ہے۔اور وہ ضر در یہ بھی بجھ گئے ہوں گے کہ حسب آیت فمسك التي قضى عَلَيْهَا المَوت - رسورہ زمرہ جیسے علیہ اسلام دوبارہ زندہ ہو کر نہیں آسکتے۔کیونکہ یہ آمیت وفات پانے والے کے دوبارہ دنیا میں بھیجا جانے میں روگ ہے۔کیونکہ اللہ تعالے نے اس میں فرمایا ہے جیس کے لئے وہ موت کا فیصلہ کر دے اسے روکے رکھتا ہے۔یعنی اسے دوبارہ دنیا میں نہیں بھیجتا۔پس لازنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس اجماع کے بعد نزول عیسی یا ابن مریم کی بعد تاہوں کا یہ مطلب بھی نہیں لے سکتے تھے کہ وہ دوبارہ نہ مادہ ہو کر دنیا میں آنے اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریف لاکر دنیا کی اصلاح کریں گئے۔بلکہ وہ ان پیش گوئیوں کو کسی امتی فرد کے متعلق ہی یقین کر سکتے تھے۔پس ذاتم الانبیاء کے حقیقی معنی ان کے نزدیک یہی ہو سکتے تھے کہ موجو دینی انحصرت