الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 140 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 140

یعنی لوگو یہ تو کر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں۔مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ حضرت ام المؤمنین عائشتہ الصدیقہ رضی الله عنها نے مسلمانوں کو لانبی بعدہ کہنے سے اس کے ان عام معنوں سے کہ ہ میر صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا ، غلط فہمی پیدا ہونے سے بچانے کے لئے روکا ہے کیونکہ پیمضموم ان کے نزدیک خاتم النبین کے اصل معنی کے منافی ہے کیونکہ لانبی بعادلے کا مفہوم عام اور ظاہر کی معنوں میں اتم النبین کے حقیقی معنی نبیوں کی خاتم سے تضاد اور تناقض رکھتا ہے کیونکہ لانبی بعد کہنا اپنے عام معنوں میں آئندہ بی کے آنے میں مانع ہے اور خاتم النبین کی خاتم روحانی کے فیض سے آئندہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے مقام نبوت پانا ان کے نزدیک متنع نہ تھا اور وہ خاتم النبین کے ان تاویلی معنوں کی قائل نہ تھیں جن کے مفتی صاحب قائل ہیں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم وصیت نبوت سے متصف ہوتے ہیں آخری بنی ہیں۔اور نہ وہ لانبی بعدی کے مفتی صاحب والے ان بعنوں کی قاتل تختیں کہ آئندہ کسی کو خندہ نبوت نہیں مل سکے گا۔ورنہ وہ لانبی بعدی کتنے سے منع نہ فرمائیں۔حضرت ام المومنین رضی الله عنها حديث لا نبی بعدی کو جانتی تھیں 21۔اس کی ان معنوں کے لحاظ سے منکر نہ تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اپنے اس قول سے یہ ہے کہ آئندہ کوئی ایسا نبی سپیدا