الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 130 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 130

خدا وندی کے ساتھ ہونے کے لئے اس کی اطاعت بھی لازمی ہوتی رختم <mark>نبوت</mark> کامل منت گویا مفتی صاحب آیت فاو ليك مع الذين انعم الله عليهم من ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ن کے قبلہ اسمیہ کے معنی جو استمرالہ پر دلالت کرتا ہے آخرت میں در حیات ملنے سے متعلق قرار دے رہے ہیں۔ہم مانتے ہیں کہ قیامت کو بھی اطاعت کرنے والے اپنے اپنے درجہ کے مطابق <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>وں یا صدیقیوں یا شہداء یا صالحین میں شمار ہوں گے مگر یہ آیت ان درجات کا پانا قیامت سے وابستہ نہیں کرتی۔جملہ اسمیہ چونکہ استمرار کا فائدہ دنیا ہے اس لئے جو لوگ اس دنیا میں <mark>نبوت</mark> یا صدیقیت یا شہادت یا صالحیت کا مرتبہ پائیں گے۔وہ آخرت میں بھی ان مدارج پر ثواب پانے ہیں ان گروہوں میں شامل ہونگے۔پھر مفتی صاحب نے جب جنت میں آمنیوں کا بلیوں کے درجات پاتا مان لیا۔تو خاتم ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ین کے ان کے معنے کیسے درست رہے کہ آنحضرت صلے <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے <mark>بعد</mark> کوئی شخص دست <mark>نبوت</mark> سے متصف نہیں ہو سکتا ، جب خاتم ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ین کے <mark>بعد</mark> میت میں درجہ <mark>نبوت</mark> مل سکتا ہے تو یہ لوگ آخرت میں وسطی <mark>نبوت</mark> سے متصف ہو جائیں گے اور مفتی صاحب کے خاتم ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ن کے یہ معنی غلط قرار پا چیا ئیں گے کہ آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم وصعت <mark>نبوت</mark> پانے میں سب سے آخری بنی ہیں۔مفتی کا یہ بیان فرماتے ہیں کہ قرآن مجید نے کسی اور بنی کی اطاقت کا حکم نہیں دیا اس لئے کوئی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> نہیں آسکتا ورنہ اسکی اطاعت بھی لازمی ہوتی۔مفتی صاحب پر واضح ہو کہ قرآن مجید میں <mark>اللہ</mark> تعالی فرماتا ہے