الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 129
والی شهر قرار دیتے ہیں مگر موں نا محمد قاسم صاحب نے خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ین کی تفسیر میں خاتم کو اس کے لغوی مصدری معنوں میں لے کر آپ کو خاتم بالذات قرا نہ دیا ہے اس مفہوم میں کہ تمام <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>وں نے آپ کے خاتم بالذات ہونے کے واسطہ سے نبوت کا نیین پایا ہے گویا ان کے ظہور میں آپ بالواسطہ موثر ہیں اب جبکہ <mark>شریعت</mark> محمدیہ نامہ کا <mark>مستقل</mark>ه إلى يوم القيامة آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آگئی تو آپ سے علیہ وسلم کی اطاعت شرط ہوگئی۔لہذا کوئی <mark>مستقل</mark> <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔ان امتی کو نسلی طور پر مقام نبوت بل کھتا ہے نوس نقل <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> نہیں ہوگا۔بلکہ ایک پہلو سے <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> اور ایک پہلو سے امتی ہوگا۔کیونکہ انتی <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> اور نطقی بنی ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں۔البتہ مقام نبوت پانے کی وجہ سے وہ ا<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>اء کے زمرہ میں شامل ہوگا جس طرح آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے بعض لوگ اس آیت کی روشنی میں صدیقوں ایہ نامہ کالم الا فیض پانے کے لئے آنحضرت صلے اللہ میں شامل ہوں گے اور حج شہیدوں میں اور بعض صالحین ہیں۔پس یہ آیت خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ین کی خاتم بالذات کے فیض سے <mark><mark>آئندہ</mark></mark> انتی بی کے پیدا ہونے کے لئے روشن دلیل ہے یعنی صاحب نے اس آیت کی تفسیر اپنے مطلب کے مطابق یوں بیان کی ہے کہ : اس آیت میں در حیات بات اور ملزبین خداوندی کے ساتھ ہونے کا وعدہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر کیا گیا جو اس کا صاف اعلان ہے کہ آپ کے بعد کوئی <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> نہ ہو گیا۔وگرنہ قرین