الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 125
کے خاتم النبین ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی نبوت بالذات ہے اور سوا آپ کے تمام انبیاء اور خواتیم انبیاء کی نتونین بالعرض ہیں۔یعنی اُن سب کی نہوئیں آپ کی خاصیت بالذات کا فیض ہیں اور آپ کی نبوت کسی اور نیا یا خاتم کا فیض نہیں۔پھر آپ نے خاتم النبیین کے ان معنوں کا اثر یہ بتایا ہے کہ ان معنی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت نہ صرف انبیاء کے افراد خارجی (انبیائے سابقین ، پر ثابت ہوتی ہے بلکہ افراد متقدره یعنی جن کا آنا اللہ تعالے کے نزدیک مقدر ہے پر بھی ثابت ہو جاتی ہے۔اور اس طرح ان معنوں کا اثر یہاں تک تقسیم کیا ہے کہ بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔د تحذیر الناس مش ۲۵ بنحاظ ایڈیشن مختلف) پھر مولانا محمد قائم صبا دیتے نے ان معنی کے ثبوت میں ایک دوسری حدیث نوسی تحزیر الناس میں گشت نبياء المبينَ المَاءِة الطين كُنتُ نَبِيَّادَ پیش کی ہے۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں اس وقت بھی نبی تھا جبکہ آدم علیہ السلام ابھی پانی اور گیلی مٹی کی حالت میں تھے۔علیہ مولانا محمد قاسم سا ہے نے اس حدیث سے یہ استنباط کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت بالذات ہے جو شہر کی طرح تاثیر رکھتی ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ اتنا ضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب آدم سے پہلے نبی تھے تو خاتم النبین کی حیثیت سے نبی تھے معمولی نبی نہ تھے چنانچہ حدیث راقی