الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 118
114 پر امت کا اجماع ہے ایک باطل دخوئی ہے کیونکہ فقہ حنفی کی کہو سے تو آئند کے متعلق پیش گوئیوں کے مفہوم کے بارے میں اجماع ہو ہی نہیں سکتا۔چنانچہ مسلم الثبوت مع شرح میں لکھا ہے :۔واما في المستقبلات مَا شَرَاءِ السَّاعَةِ وَ أُمُورِ الْآخِرَةِ فلا راي الإجماع، عِنْدَ الْحَنْفِيَّةِ لان الغيب لا مَدْخَلَ فِيهِ الاجتهاد : اسلم الثبوت مع شرح ) یعنی جو باتیں مستقبل سے تعلق رکھتی ہیں جیسے اشراط ساختہ اور امور آثرت میں ان میں مفیوں کے نزدیک اجماع نہیں ہے کیونکہ امور غیبیہ میں اجتہاد اور چونکہ آیت خاتم النبین سے آئندہ نبی کا آنا یا نہ آنا مستنبط کرنا بھی امور مستقبلہ میں سے ہے اس لیے مفتی صاحب کے اجتہادی معنی کسی پر محبت نہیں ہو سکتے۔اور نہ وہ ان معنوں کو اجتماعی معنی قرار دینے کا ستی رکھتے ہیں۔مفتی صاحب کے خاتم النبیین کے یہ اجتہادی معنی کہ آنحضرت صل اللہ علیہ کم وصف نبوت پانے میں سب سے آخری نبی ہیں۔ان احادیث نبویہ کے رو سے باطل ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو اس وقت نیومت علی جیب آدم علیہ السلام ابھی پیدا بھی نہیں ہوتے تھے۔پس مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کی طرح جماعت احمدیہ بھی خاتم النبین کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیوں کے لئے روحانی خاتم دھری) قرار دے کر سیح موعود کی نبوت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتم روحانی کا فیض