الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 115 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 115

ان کی طرف یہ خہارت منسوب کرنا کہ وہ <mark>خاتم</mark> ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ن کی تاویل کرنے والے کہ کا فر جانتے ہیں۔امام غزالی کے کلام کی سراسر تخریف ہونے کی وجہ سے ان پر افتراء عظیم ہے میں حیران ہوں کہ مفتی صاحب جیسے عالم نے ایسی خطرناک شریف کی جرات کیسے کی ہے؟ جماعت احمد <mark>خاتم</mark> النب ) حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمدیہ <mark>خاتم</mark> ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ین آپ نہ اس جماعت احمد <mark>خاتم</mark> ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ن کسی نقص کی تاویل <mark>نہی</mark>ں کرتی اور نہ اس میں نفی کی تاویل <mark>نہی</mark>ں کرتی کی تخصیص کی قائل ہے۔جماعت احمدیہ کے نزدیک تو <mark>خاتم</mark> ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ین کے وہی دو منے مسلم ہیں جو مولانا <mark>محمد</mark> قائم آنے بیان کئے ہیں۔اول معنی مصدری ہیں دوم لازم المعنی - <mark>خاتم</mark>یت بالذات مرتبی ہیں جس کے فیض سے تمام ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء ظہور معنی اول پذیر ہوئے اور بالعرض آئندہ اتنی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> پیدا ہو سکتا ہے میں سے <mark>خاتم</mark>یت <mark>محمد</mark> سی یعنی <mark>خاتم</mark>یت مرتی اور حقیقت زمانی میں کوئی فرق <mark>نہی</mark>ں آئیگا۔<mark>خاتم</mark>یت زمانی جس کا مفہوم علماء اسلام کے نزدیک ۲ معنی دوم یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری <mark>شریعت</mark> لانے والے بنی ہیں۔ان معنی سے علم بی بی ال کی آمد کا جواز نکالتے ہیں یہی وجہ کہ ہانی اگر یہ تاویل ہے تو پھر یہ علماء تاویل کرنے والے ہیں۔اگر تخصیص ہے۔تو یہ علماء تخصیص کرنے والے ہیں لہذا سب پر کفر کا فتویٰ لگنا چاہئیے کیونکہ مفتی صاحب کی شرفہ عبارت کے مطابق <mark>خاتم</mark> ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ن کی تادیل تا تخصیص کرنے والا کا فر ہے پھر اس صورت میں مفتی <mark>محمد</mark> شفیع صاحب کو اپنا بھی ذکر کر