الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 113 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 113

۱۱۴ حضرت امام غزالی علیہ الرحمتہ یہ بات بھی نہیں کہہ سکتے تھے اس لئے کہ اجتماع امت بھی ان کے نزدیک تکفیر کا موجب نہیں ہو سکتا۔چنانچہ وہ الاقتصاد ملا اور ملا پر سکھتے ہیں :- من الكر وجُودَ أَبِي بَكْرٍ وَ خِلَافَتَهُ لَمْ يَوْمَ تَكْفِيرُة لأنَّهُ لَيْسَ تَكْذِيْبًا فِي أَصْلٍ مِّنْ اُصولِ الدِّينِ مِمَّا يَجِبُ التَّصَدِيقُ لَهُ بِخِلَانِ الحج والصلوة وَأَرْكَانِ الْإِسْلَامِ وَ لَسْنَا تَلَفرَة لِمُخَالُنَةِ الْإِجْمَاعِ فَإِنَّ لَنَا نَظرًا فِي تَكْبِيرِ النظام المُنكَرِ لاصل الإجتماع لان الشبهة كَثِيرَة فِي كَوْنِ الْإِجْمَاعِ حَجَبَةٌ قَاطِعَةٌ : الاقتصاد موما) یعنی جو شخص حضرت ابو بکر کے وجود اور ان کی خلافت کا انکار کرے اس کی تکفیر لازم نہیں ہوگی کیونکہ یہ امر اصول دین میں سے کوئی اصل نہیں جس کی تصدیق واجب ہو نخیلات بی، نماز اور ارکان اسلام کے اور ہم ایسے نفس کی تکفیر اور اور ہم اسے اجماع کا مخالف ہونے کی بناء پر بھی نہیں کرینگے۔کیونکہ ہمیں نظام کو کافر ٹھیرانے میں بھی اعتراض ہے جو سرے سے اجماع کے وجود کا ہی منکر ہے کیونکہ اجماع کے قطعی محبت ہونے میں بہت سے شبہات ہیں۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ صرف اصول دین کی تکذیب کو امام غزالی موجب کفر قرار دیتے ہیں۔لیکن اجماع امت کی بناء پر وہ کسی کی تکفیر کرنے کو