الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 112
اس قدر کہنا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ تکفیر میں حد سے تجاوز کرنے والے کا فعل کسی دلیل پر مبنی <mark>نہی</mark>ں کیونکہ دلیل یا اصل ہوگی یا کسی اصل پر قیاس ہو گی۔اور اصل اس بارہ میں مریخ تکذیب (رسول) ہے اور ہر نکل رہے نہ ہو وہ مکتب کے معنوں حکم میں قرار <mark>نہی</mark>ں دیا جاسکتا۔لہذا کی شہادت کی وجہ سے ایسے شخص کو عام صحت حاصل ہو گی یعنی اسے کافر قرار دینا جائز نہ ہوگا۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تکذیب نہ ہو اور نصوص قرآنیہ کو صحیح مانتا ہو اور کسی نص کی تاویل کرتا ہو تو وہ حضرت امام غزالی کے نزدیک نعت کا مکذب قرار <mark>نہی</mark>ں دیا جاسکتا۔وہ فضا چکے ہیں کہ اس بات کا ہمیں کوئی ثبوت <mark>نہی</mark>ں ملا کہ نادیل میں غلطی تکفیر کا موجب ہے اندریں حالات وہ کیسے لکھ سکتے تھے کہ <mark>خاتم</mark> ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ن کی نفق کی تاویل کرنے والا نفس کی دریج تکذیب کرتا ہے اور یہ تادیل اس کے اوپر کفر کا حکم کرنے سے روک <mark>نہی</mark>ں سکتی۔آخری فقرہ جو امام غزالی کیوت تحریف کرتے ہوئے منسوب کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ : ا<mark>جمع</mark>ت الأمة على انه غير ما ول ول مخصوص : اس میں امام غزالی کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ <mark>خاتم</mark> ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ین کی میں امام کہ تاویل کرنے والا اس لئے مکتب قرار دیا جائے گا کہ امت نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ اس آیت کی نہ کوئی تا بدیل ہونی چاہئیے اور نہ کوئی تخصیص۔