الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 111 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 111

نسون المُكَذِبِ لِلرَّسُولِ وَهُوَ تلد بين أصلاً و لَمْ يَقبَتْ لنا أن القطاء في القاوِيلِ مُوجِبْ لِتَلْفِيرِ فَلا بد من كليل عَلَيْهِ وَثَبَتَ أنَّ الْعِصْمَةَ مُسْتَفَادَةٌ مِنْ قويه لا إله إِلَّا اللهُ قَطَعًا فَلَا يُدْفَعُ ذَلِكَ الا بقا طع وهذَا الْقَدَرُ كَاتٍ فِي التَّنْبِيهِ عَلَى آن استرات من بالغ فِي التَّكْفِيرِ لَيْسَ مَنْ بُرْهَانٍ فَاِنَّ البُرْهَانَ إِمَّا أَصْكَ أَوْ قِيَاس على الأصل والأصل هو التكذيب الصريح وَمَن لَّيْسَ بِمُكَذِّبِ فَلَيْسَ فِي مَعْنَى المَكَذِّبِ اصلا فيبقى تحتَ عُمُومِ العِصمَة بِكَلِمَةِ الشهادة الاقتصاد مثلا) " یعنی اس امر کی دلیل کہ انہیں کا فرنہیں کرنا چاہیئے۔یہ ہے کہ ہمارے نزدیک نعت (سرعی) سے جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھیلانے والا ہو وہ کافر ہوتا ہے اور یہ فرقے (معتزلہ وشیہ) ہرگز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکذب نہیں اور ہمارے نزدیک یہ ثابت نہیں کہ تاویل میں غلطی کھانا موجب تکفیر ہے اور یہ امر ثابت شدہ ہے کہ کلم فیب ا الہ اللہ کہنے سے انسان کو جان ومال کی حفاظت حاصل ہو جاتی ہے اور جب تک اس کے خلاف کوئی یقینی دلیل نہ ہو یہ حفاظت قائم رہے گی اور ہمارا