الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 110 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 110

(11 کے بعد نہ کوئی بنی ہے نہ رسول۔اور اس پر بھی اجتماع واتفاق ہے کرنہ اس آیت میں کوئی تاویل ہے اور نہ تخصیص۔اور میں مشخص نے اس آیت میں کسی قسم کی تخصیص کے ساتھ کوئی تاویل کی اس میں کا کلام ایک بکو اس رہندیان ہے۔یہ تاویل اس کے اوپر کفر کا حکم کرنے سے روک نہیں سکتی کیونکہ وہ اس نص صریح کی تکذیب کرتا ہے جس کے متعلق است محمدیہ کا اتفاق ہے کہ اس میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں ہے (ختم نبوت کا مل مل ۱۳) خط کشیدہ ترجمہ ایسی عبارت کا ہے جو الا اقتصاد میں موجود نہیں، یہ عبارت مفتی صاحب نے احمدیوں کو کا قریبتانے کے لئے خود گھڑی ہے اور الاقتصاد کی عیادت کے پہلے حصے کے ساتھ ملا کر اپنی کتاب میں کر دی ہے۔پھر ختم جبورت کامل کے ملک پر مفتی صاد بنے یہ عبارت لیس فیہ تاویل ولا تخصیص سے آخر تک درج کی ہے۔اس میں لیس فیہ تاویل ولا تخصیص کے بعد کی ساری عبادت الاقتصاد میں موجود نہیں اور یہ سراسر محرف عبارت ہے۔الاقتصاد میں حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ نے مسلمانوں کی تکفیر کے رجحان کو مٹانے کی کوشش کی ہے نہ کہ انہیں کافر قرار دینے کی۔وہ معتزلہ اور مشبہ فرقوں کو رسول کا مکذب نہیں جانتے اور تاویل کی بناء پر کافر قرار نہیں دیتے چنانچہ وہ فرماتے ہیں ؟۔تدليل المنع مِنْ تَكْفِيرِهِمْ أَنَّ الثَّابِتَ عِندنا கும்