الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 109 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 109

11- ہو گیا تھا۔اسی کے روکنے کے لئے یہ الفاظ لکھتے ہیں۔اب واضح ہو کہ اس عبارت کے خط کشیدہ الفاظ و من اولۂ سے لیکر آخری الفاظ ولا مخصوص تک سرا سر ایک خود ساختہ عبادت ہے جو مفتی کی ہیں نے اپنے پاس سے گھڑ کر امام غزالی علیہ الرحمتہ کی طرف منسوب کی ہے تا اُسے کا فتونی ظاہر کر کے اما مرد اس عبارت کا پہلا مردانی دیول کو کافر قرار دیا جائے۔" ا حذف کر دیا ہے۔تا اس کا سیاق ظاہر نہ ہونے پائے۔ان الامة کے الفاظ سے لے کر دلا تخصیص تک کی عبارت تو الاقتصاد ملک پر موجود ہے اس کے بعد یہ فقرہ ہے۔فَمَنْكِرُ هذا لا يكون الأمنكر الاجماع - یہ فقرہ مفتی صاحب نے حدت کر کے اس کے بعد کی عبادت خود گھڑ کر امام غزالی علیہ الرحمتہ کی طرف منسوب کر دی ہے کیا اس قسم کی خطرناک تحریف کرنے والے عالم اور مفتی سے کسی نفرات کی توقع ہو سکتی ہے۔ہم مفتی صاحب کو پانچصد روپیہ انجام دیں گے اگر وہ یہ عبارت الاقتصا سے دکھا دیں میں پر ہم نے خط کھینچ دیا ہے۔مگر وہ نہ دکھا سکیں۔اور وہ ہرگز نہیں دکھا سکیں گے لہذا ظاہر ہے کہ انہوں نے اس عبارت کو امام خوابی علیہ الرحمہ کی طرف منسوب کر کے ان پر افتراء کیا ہے۔اس عبارت کا ترجمہ مفتی صاحب نے یہ درج کیا ہے:۔غرب کجھ لو کہ تمام است نے آیت خاتم النبیین کے الفاظ سے یہی سمجھا ہے کہ یہ آیت مبتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم