الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 96
تھا اس لئے موسی علیہ السلام کی یہ خواہش کہ مجھے اس امت کے اندر بنی بنا دیا ہے یہ کے اندر بناد قبول نہ کی گئی اس پر انہوں نے صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنایا جائے کی خواہش کر دی اسے بھی اللہ تعالے نے قبول نہ کیا۔جناب مفتی صاحب ! اس حدیث سے الٹا نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں بدیں وجیہ کہ نیا کا لفظ آیا ہے۔انبیا تھا کا لفظ نہیں آیا۔اس کا جواب یہ ہے بياتها چونکہ حضرت موسی امت میں خود ایک بیٹی بننے کی خواہش رکھتے تھے اس لئے خدا سیاق کا نے ان کی خواہش کے رد میں انبیا منها كا مفرد لفظ استعمال فرمایا۔گویا امت میں ایک بنی ہو سکے ذکر سے سی علیہ السلام کے امت میں بنی نہ ہونے کے پیشگوئی فرما دی اور اس کے ضمن میں امتی نبی کی آمد کا علمی الما طلاق امکان بیان فرما دیا۔مفتی صاحب کے ذہن میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ موسی علیہ السلام نے بہ خوامیش کی منتی کہ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو بوریت سے مٹا کر مجھے ان کی جگہ بنی بنا دیا جائے۔اگر مفتی صاحب کا ایسا بیالی ہو تو اس قسم کا گستاخانہ لقماش لكان کلام حضرت موسی کی طرف منسوب کرنا کسی عالم کو زیب نہیں دیتا۔حدیث ششم ایک اور حدیث اس بات پر روشن دلیل ہے کہ خاتم النتین کی آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اشتی نبی کے آنے کے مثالی نہیں چنانچہ حضرت ابن عباس سے روایت ہے۔کما ما سر بر اسلام ابن رَسُول مقال الله