الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 95
کہ تو پہلے ہو گیا ہے اور وہ بنی پیچھے آئیگا۔لیکن میں تم دونوں کو دارالجلال ہیں جمع کر دوں گا۔اس سے ظاہر ہے کہ حضرت موسی کی اس خواہش سے کہ مجھے اس امت کا بنی بنادیا جائے سے یہ مراد نہیں ہو سکتی ملتی یہ کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم تو اس امت کے نبی نہ رہیں اوران کی جگہ میں بھی بنا دیا جاؤں۔ایسا کہنا گستاخی تھا کیونکہ خدا تعالے نے انہیں بتا دیا تھا کہ وہ میرے رہے مکرم شہید سے ہیں اور میں نے ان کا نام عرش پر اپنے نام کے ساتھ زمین و آسمان کی پیدائش سے بھی پہلے لکھ رکھا ہے۔اور جو انہیں قبول نہیں کرے گا میں اُسے جہنم میں داخل کروں گا۔پس موسی علیہ السلام کی یہی مراد ہو سکتی ہے کہ مجھے رسول کریم صلعم کی است میں نبی بنا کر بھیجا جائے نہ یہ کہ ان کی نبوت چھین لی جائے اور مجھے ان کی جگہ بھی بنا کر بھیج دیا جائے۔یہ تو ایک گستاخانہ بات ہوتی میں کا کہنا موسیٰ علیہ السلام جیسے معرفت الہی رکھنے والے انسان کی شان سے بعید ہے پس ان کی یہی مراد ہو سکتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے تحت مجھے ان کی امت میں بنی بنا دیا جائے مگر خدا نے بيها منها کہہ کر ان کی اس خواہش کو رد کر دیا اور تبادیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مقامہ نبوت پانے کا حق صرف آپ کے امتی کو ہے نہ کسی اور کو نہیں نبتها منھا کے معنی یہی ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالے نے چونکہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی امت میں ایک امتی کا بنی ہونا مقدر کریں کھا