الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 94
94 بعد تشریف لائیں گے البتہ دارالا میں ہم مر دونوں کوجمع کردینگے اس پوری حدیث کے سیاق کو مد نظر ر کھا جائے تو اس میں یہ مذکور ہے کہ خدا تعالٰی نے موسی علیہ السلام سے کہا تھا کہ بنی اسرائیل کو مطلع کرد و کریم شخص مجھ سے اس حالت میں ملے گا کہ وہ احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا منکر ہوگا تو میں اس کو وزخ میں داخل کرونگا۔خواہ کوئی ہور موسی علیہ السلام نے عرض کیا۔احمد کون ہیں ؟ ارشاد ہوا۔اسے موسی ہے قسم ہے مجھے تو و جلال کی میں نے کوئی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی جو ان سے زیادہ میرٹی مکرم ہو۔میں نے ان کا نام عرش پر اپنے نام کے ساتھ زمین و آسمان کے پیدا کرنے سے پہلے لکھ دیا تھا۔اور حقبت میری تمام مخلوق پر حرام ہے جب تک وہ بنی اور اس کی امت اس میں داخل نہ ہوں۔حضرت موسی نے کہا۔آپ کی امت کون لوگ ہیں۔خدا نے فرمایا۔وہ بہت محمد کرنے والے ہیں۔چڑھائی اور اترائی میں حمد کریں گے۔اپنی کمریں باندھیں گے اور اپنے اعضاء کو پاک رکھیں گے۔دن کو روزہ رکھنے والے ہوں گے۔اور رات کو تارک دنیا۔میں ان کا تھوڑا عمل بھی قبول کر لوں گا اور نہیں کر لا إله إلا الله کی شہادت دینے سے حقیقت میں داخل کروں گا۔اس پر حضرت موسیٰ نے خدا سے مومن کیا۔اجْعَلْنِي نَبِيَّ تِلكَ الأُمَّةِ قَالَ نَبِيُّهَا مِنْهَا کہ مجھے اس امت کا نبی بنا دیا جائے۔تو خدا نے فرمایا اس امت کا بنی اسی امت میں سے ہوگا۔اس پر موسی آنے کہا مجھے اس نبی کی امت ہی بنیا دیا جائے تو خدا نے یہ جواب دیا استقدمت وَاسْتَاخَرَ وَ لكِن سَاجْمَعُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ فِي دَارِ الْجَلَالِ