الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 66
اسی طرح آخر الجانسین - آخر الرا ملین - آخر الراكبين آخر القادمين آخر الفاتحین آخرا المساجد وغیرہ کلمات میں کسی کو یہ وہم بھی نہیں گزرتا که جو لوگ وصف مضاف الیہ کے ساتھ متصف ہو چکے ہیں وہ آخرا در خاتم کے آئنے سے قبل لقمہ اجل بن گئے۔ملیکہ ان سب کلمات اور ان کی امثال میں ہمیشہ آئندہ کے لئے صیف مضاف الیہ کا انقطاع مراد ہے۔رختم نبوت کامل (111) اس کے بعد مفتی صاحب نتیجہ نکالتے ہوئے لکھتے ہیں:۔پھر ختم نبوت اور خاتم النبین میں ہی نہ معلوم کسی را از کی بنیاد پر یہ معنی لئے جاتے ہیں اور خواہ مخواہ اس کو حیات پہلے علیہ السلام کا مخالف بتایا جاتا ہے" (ختم بنوتت کامل ) جناب مفتی صاحب پر واضح ہو کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ آخرالیا اسیں۔الجواب آخر الراحلين - آخر الراکبین - آخر الذا جبین آخر انقاد میں کی آخرالذا انفارمیں مثالوں میں سے کسی کو یہ شک نہیں گزرتا کہ وصف مضاف الیہ سے متصف سب پہلے لوگ لقمہ اجل بن گئے۔مگر آپ نے غور نہیں فرمایا کہ ان مثالوں میں مضاف الیہ گروہوں کا سلسلہ کسی لمبے اور غیر معمولی زمانہ اور صدیوں پر مند نہیں۔لیکن آخر انہین کا زمانہ چونکہ اتنا رائے آدم علیہ السلام تا ظور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منہ ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء میں سے کسی کے زندہ رہنے کا ثبوت ان محمود زمانہ سے تعلق رکھنے والی مشانوں سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔امرا مفتی صاحب